بُخارِ دل — Page 154
154 خداداری چه غم داری اہل خانہ کو وصیت یہ وصیت اگر چہ بظاہر ایک ذاتی معاملہ نظر آتا ہے تاہم اس کا مرکزی نقطہ یعنی خدا تعالیٰ پر ہر مصیبت اور ہر حالت میں تو گل رکھنا، اس سے ہر شخص فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔اس کے لکھنے کی یہ وجہ پیش آئی کہ اس جاڑے میں میرے دمہ کی تکلیف غیر معمولی طور پر لمبی اور سخت تر ہو گئی تھی۔یہاں تک کہ اس قدر ضعف قلب اُس کے سبب سے لاحق ہو گیا کہ کئی دفعہ فوری طور پر موت کا خطرہ محسوس ہوتا تھا اور بہت سی راتیں میں نے ساری کی ساری بیٹھ کر کاٹی ہیں۔اسی شدت مرض کی حالت میں یہ نظم کہی گئی تھی۔الحكمة ضالة المومن اخذها حيث وجدها نہ رونا میرے مرنے پر نہ کرنا آہ اور زاری پرند نہ ہوناصبر سے عاری مری بیگم میری پیاری جدائی عارضی ہے یہ ملیں گے اب تو جنت میں جدائی پھر نہیں ہو گی۔نہ ٹوٹے گی کبھی یاری خدا سے لو لگی رکھنا کہ جس پر مہرباں وہ ہو اُسے کہتا ہے ”خوش ہو جا خداداری چه غم داری“