بُخارِ دل — Page 98
98 کہ جتنے زنگ مخفی ہیں محبت سب کی منتقل ہیں کلیجہ ہے کہ آتش ہے یہ آنکھیں ہے کہ بادل ہے نہ اس پہلو مجھے کل ہے نہ اُس پہلو مجھے کل ہے گریباں چاک کر ڈالا اسی جوش محبت میں ہزاروں حرکتیں ایسی کہ گویا عقل مختل۔طواف قصر جاناں میں کبھی کٹتی تھیں یہ راتیں ہے ہراک زینے پہ اک سجدہ کہ یہ دلبر کی ہیکل ہے ہنسا کرتے تھے سُن کر عشق کے رستے کی سختی ہم مگر جب خود چلے دیکھا کہ سر تاسر ہی دلدل ہے بجائے نیند برسوں سے مقدر میں ہے بے خوابی عجب بستر ہے کانٹوں کا بظاہر گرچہ مخمل ہے کسے دیکھیں ؟ کہاں دیکھیں ؟ جدھر دیکھا وہ ہی وہ ہے جو ظاہر ہے جو باطن ہے جو آخر ہے جو اوّل ہے ہم اُس سے ہیں ، وہ ہم میں ہے، جُدائی ہو نہیں سکتی 1 یعنی مسجد مبارک قادیان نظر آئی دُوئی جس کو، وہ خود نااہل و اخول ہے