بُخارِ دل — Page 97
97 ہدی اور دینِ حق کا لے کے ہتھیار ہر اک ملت پہ وہ غالب ہوا ہے علم بردار آئین مساوات بڑا احسان دنیا پر کیا ہے اُٹھایا خاک سے روندے ہوؤں کو ہر اک جانب سے شور مرحبا ہے ہوا قرآن اُس کے دل پہ نازل وہ دل کیا ہے کہ عرش کبریا ہے وہی زندہ نبی ہے تا قیامت کہ لنگر فیض کا جاری سدا ہے امام سالکان برق رفتار کہ سدرہ ایک شب کی منتہی درندے بن گئے انسان کامل اثر صحبت کا خود اک معجزہ ہے یتیمی شہنشاہی غرض سچ مچ محمد ہے پہنچا مگر پھر بھی وہی عجز و دُعا ہے جبھی تو چار سُو صَلّ على ہے الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ ہے اخبار فاروق14 /نومبر 1932ء