بُخارِ دل — Page 224
224 عام آدمیوں کی سادہ باتیں اور اہل علم کی اصطلاحیں اہل علم نے اکثر مذہبی اصطلاحیں ایسی مشکل اور نا قابل فہم بنادی ہیں کہ محض الفاظ ہی کے ڈر اور رعب سے غیر عربی دان عوام الناس اُن کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ خوف کھاتے ہیں کہ خدا جانے یہ کیا مصیبت ہے جو ہمیں در پیش ہے۔مثلاً عرفانِ الہی الہام خداوندی، محبت الہی ، وصل الہی ، تقویٰ اللہ ، ذکر و تسبیح ، انعامات خداوندی، نصرت اللہ اور تائید الہیہ وغیرہ وغیرہ۔جب علمائے کرام اپنی تقریروں میں ایسے الفاظ کا ذکر کرتے ہیں تو بیچارے کم علم دیہاتی لوگ حسرت سے اُن کے منہ کو تکتے ہیں۔اگر انہی الفاظ کو عوام کے لئے سادہ عبارت میں اُن کی اپنی زبان میں بیان کیا جائے تو دین کے متعلق لوگوں کی بعض مشکلات دُور ہو جائیں اور اُن کو مذہب کا شوق بھی پیدا ہو جائے۔مندرجہ ذیل اشعار میں ہر شعر کے ایک مصرع میں مذہبی اصطلاح اور دوسرے مصرع میں اس کا عام فہم اُردو مفہوم بیان کیا گیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ لوگ ان اصطلاحات کی اضلیث سے کسی حد تک واقف ہو جائیں۔جان پہچان تم سے ہو جائے معرفت سے بھلا ہمیں کیا کام بات سننے کو میں ترستا ہوں مجھ کو الہام چاہیے نہ کلام شم پہ مرتے ہیں اے میرے پیارے عشق کا دے رہے ہو کیا الزام یونہی چھپ چھپ کے ملتے رہنا ثم وصل کا تو خیال ہی ہے خام زاہدو! کیا کریں دعاؤں کو مانگنا بھیک ہے ہمارا کام مجھ سے تقویٰ کا کرتے ہو کیا ذکر ڈرتا رہتا ہوں جب میں تم سے مدام تعلق کیا اپنے دلبر کا چُپ رہے ہیں نام ذکر و تسبیح ނ واسطہ کیا مجھے عبادت سے ہوں تمہارا میں بندہ بے دام