بُخارِ دل — Page 221
221 ہے خالق نعمات خداوند دو عالم مانگ اُس سے دُعا تا ملےکم خانہ لذت اس ترک سے مولیٰ کی رضا تجھ کو ملے گی دُنیا کا یہی ترک ہے، بیعانہ لذت ہم عاشق ساقی ہیں، وہ منعم ہے ہمارا محسن ہے مرا ساقی میخانہ لذت احسان کا مطلب ہے فراوانی نعمت نعمت ہی ہے گر سوچو تو پیمانہ لذت ہے دائگی اور غیر مگدر وہی بادہ پلوائے گا جو ساقی کم خانہ لذت جنت میں تو ہے یار بھی اور وصل و رضا بھی ہے خانہ دلدار ہی کاشانہ لذت اسے ساقی میخانه! خُدارا یہ کرم کر دے ہم کو سرافرازی شاہانہ لذت جنت ہے ترے فضل کی اک کانِ تنعم دوزخ ہے ترے قہر سے ویرانہ لذت ا مُنْعَم جاں بخش! عطا عشق ہو تیرا جنت میں ملے جلوۂ جانانہ لذت دنیا میں نہ ہو حرص سفیہا نہ مزوں کی عظمی کا ملے ذوق فقیہانہ لذت اسلام نے فردوس کی نعمت جو عطا کی آ، پیش کریں سب کو یہ شکرانہ لذت