بُخارِ دل

by Other Authors

Page 220 of 305

بُخارِ دل — Page 220

220 بے معنی چیز ہے کیونکہ خدا سے محبت ہی کیونکر پیدا ہوسکتی ہے۔جب تک نعمتوں کے احسانات انسان کو محبت کرنے پر مجبور نہ کر دیں۔آدمی کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے محسن سے محبت کرتا ہے۔اور کسی سے نہیں اور جہاں بھی محبت دیکھو گے۔یہی پاؤ گے۔کہ اس کی اصل وجہ کوئی نہ کوئی احسان ہے۔(12) صرف روحانی جنت“ یعنی محض آنند میں رہنا ایک فرضی چیز ہے یا شاید موت اور مٹی ہو جانے کا دوسرا نام۔سُن !غور سے اے جان تو افسانہ لذت مطلب ہے تیری زیست کا میخانہ لذت انسان حقیقت میں ہے دیوانہ لذت یا شمع تنعم کا ہے پروانہ لذت دنیا تو ہے بازیچہ طِفلانہ لذت فردوس ہی ہے اصل میں شمخانہ لذت لذات تو دنیا میں نمونہ کے لئے ہیں جنت کا بنے تاکہ تو مستانہ لذت اُس صوفی احمق کی ذرا عقل تو دیکھو مذہب کو بتاتا ہے جو بیگانہ لذت معشوق ہے انسان کا گو خالِقِ نعمت مقصود مگر اُس کا ہے میخانہ لذت فطرت میں ضمیر اس کے ہے لذت ہی کی خواہش جسمانی مزوں کا ہے یہ مستانہ لذت لذت کے سوا تلخ ہے سب زندگی اس کی مرجائے نہ گر پائے یہ نذرانہ لذت ہر وقت سرشت اس کی ہے مائل بہ لذائذ کوشش ہے بیٹے ساغر و پیمانہ لذت دنیا کے مگر لطف ہیں فانی و مکدر ہے عارضی اور سیخ یہ کاشانہ لذت لذات کو دنیا کی تو کر ترک اے طالب ! عقمی کا ملے تا تجھے کم خانہ لذت بھولے گا تو ساقی کو اگران میں پڑے گا گم ہو گی کلید در میخانہ لذت