بُخارِ دل — Page 219
219 لذت اس نظم میں حسب ذیل حقیقتیں واضح کی گئیں ہیں۔(1) انسان کی فطرت طالب لذت جسمانی بنائی گئی ہے۔(2) اس کی ساری کوششیں اسی مطلب کے لئے ہوتی ہیں۔(3) بغیر مسلسل لذت حواس خمسہ کے اس کی زندگی تلخ رہتی ہے۔(4) چونکہ وہ جسمانی لذت کا ہر وقت طالب ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے آخرت میں اُس کے لئے ایک لذت دائمی کا گھر تیار کیا ہے۔(5) اس گھر کا نام جنت ہے کیونکہ اس کی فطرت اسی کی طالب تھی۔(6) اس جنت کے ملنے کے لئے دو شرائط رکھی ہیں اور اُن ہی کو انسان کے لئے دین اور مجاہدات اور سلوک کا راستہ قرار دیا ہے۔(7) پہلی شرط یہ ہے کہ اس دنیا کی لذتیں جو عارضی اور مکدر ہیں اُن کو اُسے حتی المقدور ترک کرنا پڑے گا کہ وہ صرف بقدر ضرورت اور بطور نمونہ ہیں۔(8) دوسرے خدا تعالیٰ جو منعم حقیقی اور معطی کذات ہے اُس کی رضا حاصل کرنی پڑے گی اور شرک چھوڑ کر بکلی اُس کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا۔(9) جب یہ دونوں باتیں حاصل ہو جائیں گی یعنی ترک دُنیا اور عشق الہی تو پھر اس کے لئے ابدی اور غیر مکڈ رجنت کا راستہ صاف ہے، جہاں رضائے الہی اور کلام الہی تمام نعمائے جسمانی کے ساتھ حسبِ خواہش ملیں گی اور انہی سب باتوں کا نام وصلِ الہی ہے۔(10) یا درکھنا چاہئے کہ بغیر منعم کی محبت اور رضا کے اُس کی نعمتیں اُڑانا چوری ہے۔(11) اسی طرح بغیر دائی جسمانی نعمتوں کے محض عشق الہی بھی