بُخارِ دل — Page 218
218 ہے اُن کی گنڈی بھلا چڑھے گی خاک ہاتھ میں روز جن کے تگن الغرض پانچوں عیب ہیں شرعی پیپ سے بھر گیا یہ دنبل ہے ہے ہے یہ وجوہات ہیں مصیبت کے ایسے اعمال کا یہی پھل ہے جس کی تائید میں کھڑا ہو خدا اُس کی جانب ہی قول فیصل ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو احمد پاک اُس سے سے افضل ہم مُرید حضور احمد ہیں جو نبی ہے جری ہے مرسل ہے ٹور کا اس کے ہے یہ سب فیضان ورنہ یاں کس کو اس قدر بکن ہے گرچه خوردیم نسبتے ست بزرگ اس پہیلی کا بس یہی حل ہے لاہور کی دعوتیں دل پر تھا جو کہ پاریش برسوں سے قادیاں کا دو دن میں زنگ لایا لاہور کی فضا میں اب واپسی پہ آ کر معلوم یہ ہوا ہے کے ذکر میں ہے لذت کے لطف ہے دُعا میں اعلیٰ ترین کھانے ، مہمانیوں کے کھا کر تاریکیاں ہیں دل پر فرق آ گیا ضیا میں ماحول کی تھی برکت دار الاماں کی طلعت رہتے تھے ہم سما پر اُڑتے تھے ہم ہوا میں چکھا طعام شاہی مرغ و کباب ماہی یوں چڑھ گئی سیاہی مُجرم ہو جُوں سزا میں (*1944)