بُخارِ دل — Page 211
211 ابنِ آدم بھی آدم ہی ہے پاک ہم پیدا ہوئے تھے پر تھا شیطاں تاک میں کب وہ دن ہو نکلے اس جنت سے یہ آدم کہیں آخر اک دن مجھ کو دھوکا دے دیا ملعون نے اپنی عصمت کا رہا باقی نہ وہ عالم کہیں ہم بھی جب جنت سے نکلے ہو گئے تم سے جُدا خاک ایسی زندگی پر خم کہیں اور ہم کہیں" کس قدر خوشیاں ہوں اے پیارے کہ پھر ہجراں کے بعد طالب و مطلوب مل جائیں گلے با ہم کو باہم کہیں آگئی گویا (1943) رُوح کو گر نصیب تقویٰ ہو زیر فرمان آ گئی گویا ترک دُنیا کو مان لے گر عقل قاد آسان گئی گویا ہو گھر میں دُکان آ گئی گویا تو کل ملا تو رزق آیا جب ذکر کی جس کو مل گئی لذت قَوْءِ عرفان آ گئی گویا علم وابسته روح فرقان آ گئی گویا ނ