بُخارِ دل — Page 212
212 نفس کی خواہشوں مرگ شیطان آ گئی گویا قابو ہو احمدی کو ملے دلائل کیا بُرآن آ گئی گویا دنیاوی تعلقات منقطع اتنا ہوا پبلک سے میں مدتوں سے جو آیا نہ ہو لوگ یہ سمجھے کہ شاید مر گیا کیا لگے گا اُس کے مرنے کا پتا انقطاع خلق ہے از بس مُفيد جو پھنسا دنیا میں، دلدل میں دھنسا عارضی تکالیف میں بھی خدا نے لذت رکھی ہے ہجر میں ہے وصل سے بڑھ کر مزا لطف ہے رونے میں ہنسنے سے سوا جہل کی لذت کے آگے علم کیا! بُھوک کا سیری سے بڑھ کر ذائقہ شرط پر یہ ہے کہ ہوں سب عارضی طاعون کا شہید احمدی نہ سمجھو بُرا کیونکہ ہے وہ شہید جو ہو احمدی فوت، طاعوں کے ساتھ