بُخارِ دل

by Other Authors

Page 157 of 305

بُخارِ دل — Page 157

157 کبھی خیرات کر دینا بڑھاتی ہے یہ درجوں کو کبھی صدقہ بھی دے دینا کہ صدقہ ہے بہت کاری ہمیشہ قبر پر آنا میری خاطر دعا کرنا کہ باقی رہ گئی ہے بس یہی خدمت یہی یاری بشارت تم مجھے دینا 'خدا دارم چه غم داری جواب اندر سے میں دوں گا خدا دارم چه غم داری اگر تقویٰ نہ چھوڑو گی فرشتے پیر دھوئیں گے کرے گا میرا آقا بھی تمہاری ناز برداری میرے اللہ کا وعدہ ہے تم کو رزق دینے کا نہ کرنا شک ذرا اس میں نہ کرنا اُس سے غداری مجھے کیا غم ہو مرنے کا تمہیں کیا غم بچھڑنے کا خدا دارم چه غم دارم خدا داری چه غم داری کسی کی موت پر دعوت ضرورت ہو تو جائز ہے اجازت ہے شریعت میں نہیں ہے فرض سرکاری دعائے مغفرت بس ہے عزیزوں کی عزا داری طعام پر تکلف سے نہ ہو میری دل آزاری نہ غم کے غذر سے زردے پلاؤ فرنیاں آئیں سبق مت بھولنا اپنا خدا داری چه غم داری