بُخارِ دل — Page 153
153 مرید پیر مغانم زمن مرنج اے شیخ چرا که وعده تو کر دی و او ب<mark>جا</mark> آورد تو شعر جوش سے کہتا ہے سوچ سوچ کے میں و میرست ترا آمد و مرا آورد اُسی کے شعر یہاں ہوسکیں گے اب مقبول که درمیان غزل قول آشنا آورد بر آن سرم کہ دل و <mark>جا</mark>ں فدائے تو بکنم مستی است ندائم کے رُوبما آورد الہی ڈال دے دامانِ مَغْفِرَث اُس پر کہ الت<mark>جا</mark> به در دولت شما آورد یہ کاک ٹیل جو چکھا تو بولا اک کے خوار که بود ساقی و این باده از ک<mark>جا</mark> آورد! بكُفْتَمَش قَدَنی هست و میفروش اورا به قند حافظ و خوشبوئے میرزا آورد (الفضل 17 جولائی 1943ء) کاک ٹیل Cock Tail وہ شراب جو کئی طرح کی شرابوں کو ملا کر بنائی <mark>جا</mark>تی ہے جس طرح یہ نظم اُردو اور فارسی کے امتزاج اور حافظ علیہ الرحمۃ کے مصرعوں اور حضرت مسیح موعود کے کلام کی چاشنی سے مرکب ہے۔