بُخارِ دل

by Other Authors

Page 137 of 305

بُخارِ دل — Page 137

137 66 نہیں جائز ، زباں کھولے تو گنہ ذات باری میں خدا کیسا ہے؟ کیا ہے؟ کیوں وہ ایسا ہو نہیں سکتا ؟ اما الموجو د سے اپنا پتہ دیتا ہے خود مولی خداوہ ہو نہیں سکتا، جو خود ہو نہیں سکتا ذراسی پھونک کر دیتی ہے میلا شیعہ دل کو پر استغفار دائم ہو، تو دھندلا ہو نہیں سکتا کر و تبلیغ ، دو چندے، دُعا ہو غلبہ دیں کی کہ احمد کا سپاہی تو نکتا ہو نہیں سکتا الہی! فضل کر، تا احمدیت کی ترقی ہو بغیر اس کے اندھیرا ہے، گزارا ہو نہیں سکتا دُعائے من (الفضل 9 مارچ1943ء) یہ دُعا صرف انفرادی ہی نہیں بلکہ جماعتی رنگ میں بھی مانگی گئی ہے۔اس کا وزن بھی غیر معمولی ہے یعنی ہر مصرع کا وزن مفاعلن مفاعلن یا اردو میں ” کہاں گیا، کہاں گیا“۔خدائے من خدائے من، دوائے من شفائے من قبائے من ردائے من ، رجائے من ضیائے من قبول گن دُعائے من، دُعائے من ندائے من ندائے من کو ائے من کو ائے من صدائے من میں بندہ ہوں ترا غریب، تُو ہے مرا خدا عجیب میں دُور ہوں تو ہے قریب ہمیں مانگتا ہوں اے مُجیب