بُخارِ دل — Page 136
136 ہو نہیں سکتا علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا تم اچھا کر نہیں سکتے ، میں اچھا ہو نہیں سکتا مرض پیدا کیا جس نے وہی اپنا معالج ہے نظر وہ لطف کی کر دے تو پھر کیا ہو نہیں سکتا؟ و نہیں محصور ہرگز راستہ قدرت نمائی کا نہ کہہ سکتا ہے یہ کوئی کہ ایسا ہو نہیں سکتا خدا سے عشق کو مانگا کرو دائم کہ یہ نعمت سماوی نو ر ہے دُنیا میں پیدا ہو نہیں سکتا کرم فرماؤ۔آ جاؤ تم ہی اس خانہ دل میں کہ قبل از مرگ واں آنا ہمارا ہو نہیں سکتا رقیبوں کی نہ ہو محفل تو جی اپنا نہیں لگتا کہ جو تیرا نہ ہو جاناں، وہ میرا ہو نہیں سکتا جو خود کو بد کہتا ہو فقط منہ سے وہ کا ذب ہے نہ ہو ر بان جو اُس پر وہ بندہ ہو نہیں سکتا عجب لذت ہے نیکی میں عجب شیر ینی تقوی میں کہ ان کا کوئی بھی پہلو ہو، پھیکا ہونہیں سکتا یہ مرضی اُس کی اپنی ہے۔نظر گر مہر کی کردے کہ دلبر سے محبت کا تقاضا ہو نہیں سکتا ارے عیسائیو! آپ نے کی جگہ تم رب کہو اس کو نہ ہوا ماں کا جو شوہر وہ ابا ہو نہیں سکتا نشانوں کو بھی دیکھے پر نہ مانے احمدیت کو مخالف اس قدر کوئی بھی اندھا ہو نہیں سکتا بنی فارس کے آگے، آپ ہیں کس باغ کی مولی سوا محمود کے کوئی خلیفہ ہو نہیں سکتا شقی آر کی نہیں بنتا سعید اے دوست کوشش سے جو سہ شنبہ ہے وہ ہر گز دوشنبہ ہو نہیں سکتا 1 یہاں مسیحا سے مراد طبیب حاذق ہے یعنی جسمانی طبیب 2 آب بمعنی باپ۔3 سہ شنبہ یعنی منگل کا دن، مراد منحوس آدمی اور وہ انسان جو مبارک دوشنبہ، یعنی مصلح موعود کا مقابلہ کرتا ہے۔4 دوشنبہ یعنی ”مبارک دوشنبہ اس سے مصلح موعود مراد ہے یعنی حضرت خلیفہ المسح الثانی۔