بُخارِ دل — Page 135
135 غصہ تو ہم پہ گالیاں مُرشد کو اپنے دیں حیف، ایک احمدی کا ہو یہ سوقیانہ رنگ تو ، اور ہم کو پیر پرستی کا طعنہ دے! جا دیکھ اپنے بُت کا ذرا آمرانہ رنگ کہتے تھے ہم تو لاکھوں ہیں اب اُڑ گئے کہاں بگڑے کسی کا یوں تو ، مرےاے خدا، نہ رنگ غیروں سے جاملے کہ ملے عزت اور مال اگلا بھی رنگ کھویا نہ چندہ ملا نہ رنگ پوری ہوئیں مسیح کی سب پیشگوئیاں جو جو دکھا رہا ہے تمھیں اب زمانہ رنگ کب تک رہو گے ضد و تعصب میں ڈوبتے کب تک چلے گا آپ کا یہ حاسدانہ رنگ ”دیکھو خدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا محمود کا تو کافی ہے یہ معجزانہ رنگ پھر آ کے پاس بیٹھو ہمارے حبیب کے جس نے تمہیں دیا تھا کبھی صالحانہ رنگ (الفضل 24 فروری1943ء) 1 یعنی حضرت خلیفہ ثانی میاں بشیر الدین محمود احمد 2 وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَالِكَ فَأَوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ۔