بُخارِ دل

by Other Authors

Page 134 of 305

بُخارِ دل — Page 134

134 رنگ خودی جو چھوڑا تو ہمرنگ حق بنے تیرا چڑھا ہے رنگ۔جب اپنا رہا یہ رنگ بہتر ہے ہر ادا سے تیری رحم کی ادا ہر رنگ سے ہے خوب مرا عاجزانہ رنگ یہ جبر و اختیار کے جھگڑے فضول ہیں عالم پہ چھا رہا ہے تیرا مالکا نہ رنگ رنگت کو اپنی تجھ سے ملایا کئے مُدام افسوس تیرے رنگ سے پر مل سکا نہ رنگ یا رب ! دکھا دے فضل سے رنگینی جمال کچھ دلبرانہ حُسن۔تو کچھ نخسینانہ رنگ نب دِل عطا کیا ہے تو کر رنگ بھی نصیب رچ جائے جان و دل میں مرے عارفانہ رنگ اُن کا رنگ دکھلایا قادیان نے جب معجزانہ رنگ لاہور نے بھی پیش کیا ساحرانہ رنگ صالح تھے اور نیک تھے جو بعض آشنا افسوس! ان پر چڑھ گیا اب باغیانہ رنگ پیدا ہوئے ہیں مصلح موعود کو کئی لیکن میاں“ کے آگے کسی کا جمانہ رنگ اے ہم نشیں! بتا وہ مُجدد تھا یا رسول دکھلاتا جو ہمیشہ رہا مرسلانہ رنگ برتر گمان و وہم سے احمد کی شان تھی اس کا تو اے عزیز! تھا شاہنشہا نہ رنگ الحاج خود کو کتنا ہی کہتا پھرے کوئی مجرم ہے پھر بھی اس میں ہوگر فاسقانہ رنگ کیونکر بناؤں پیر میں اپنا اُسے، کہ جو چلتا بنا دکھا کے ہمیں سارقانہ رنگ رکھ کر کتابیں سامنے تصنیفیں خوب کہیں اچھا ہے میرے دوست، تر امنشیا نہ رنگ