بُخارِ دل

by Other Authors

Page 133 of 305

بُخارِ دل — Page 133

133 - اپنا رنگ پہلے میرے کلام میں تھا عاشقانہ رنگ پر اب بدن کے ہو گیا کچھ ناصحانہ رنگ یعنی بنا شراب سے مکسچر کونین کا ساقی پہ یا چڑھا ہے نیا واعظانہ رنگ پیری کے اور شباب کے گل تو کھلا چکے جنت میں اے خدا! مجھے دے والہانہ رنگ صوفی وہ ہے کہ علم بھی ہو اور خر د بھی ساتھ کچھ زاہدانہ رنگ ہو کچھ عاقلانہ رنگ عادت تھی اک گناہ کی۔دل ہو گیا سیاه صابونِ تو بہ خوب ملا پر گیا نہ رنگ اے نُورِ مَغْفِرَث ! ترے قُربان جائیے تو نے کیا وہ صاف جو ہم سے چھٹا نہ رنگ خنساء کا کچھ سنا تھا مگر وہ بھی دنگ ہو نصرت جہاں کا دیکھے اگر خواہرانہ رنگ جو ” معجزات سنتے ہو، قصوں کے رنگ میں زندہ یقیں کا اُن سے ہو پیدا ذرا نہ رنگ دُنیا کے ناچ رنگ تو سب رنگ میں ہیں بھنگ خوش رنگ سب میں رنگ ہے بس مومنانہ رنگ یک رنگ با صفا ہو مری جاں - کہ خوب تر قوس قزح کے رنگ سے ہے صوفیانہ رنگ بے رنگ و شکل جسم ومکاں تیری ذات تھی پر جلوہ صفات سے کیا کیا کھلا نہ رنگ جبروت سے تمہاری نکلتا ہے دم یونہی پھر کیوں مجھے دکھاتے ہو یہ قاہرانہ رنگ 1 خنساء حضرت عمر کے زمانہ کی ایک عرب خاتون تھیں جنہوں نے اپنے بھائیوں کے پُر اثر مر جھے لکھ کر اُن کو عربی بولنے والی قوموں میں زندہ جاوید بنادیا ہے لیکن حضرت اماں جان نصرت جہان کا تعلق اُن کے بھائیوں کے نام کو آئندہ زمانہ میں عرب اور عجم میں تاقیامت زندہ رکھے گا۔(انشاء اللہ )