بُخارِ دل

by Other Authors

Page 132 of 305

بُخارِ دل — Page 132

132 گئی۔اور میں نے معلوم کیا کہ میں یہ مصرع بار بار پڑھ رہا ہوں ع ” میں ہوں بیکار اور تُو ہے کبریا“۔ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ بیکار اور کبریا میں بھلا کیا جوڑ ہے؟ اس سوال کا جواب بھی معادل میں آ گیا یعنی یہ کہ وہی ب، ی، ک، ا، ر پانچ حروف ہیں جن سے یہ دونوں لفظ بنے ہیں اس لئے یہ دونوں لفظ مشترک الحروف ہیں اگر چہ معنوں میں کس قدر بھاری اختلاف ہے۔ایک ترکیب ان حروف کی انسان کی ادنی ترین حالت کا اظہار کرتی ہے اور دوسری ترکیب اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ ترین مقام کا، پھر میں نے اسی نیم خوابیدہ حالت میں سوال کیا کہ واقعی جب میں بریکار بے مصرف اور نالائق ہوں تو ایسے انسان کی نجات اور مغفرت کی کیا اُمید اور کیا سبیل ہوسکتی ہے؟ اس کے جواب میں فوراً ایک دوسرا مصرع زبان پر بشدت جاری ہو گیا جیسے قالوا کا الف موسیٰ کی یا ( یعنی قالوا کا الف اور موسیٰ کی یا بھی تو بالکل بیکار ہیں اور بولنے میں نہیں آتے۔مگر غور کر کے دیکھو تو معلوم ہوگا کہ بغیر ان کے یہ لفظ صحیح لکھے بھی نہیں جاسکتے اور اگر لکھے جائیں تو غلط ہے پس اگر چہ یہ سچ ہے کہ تو واقعی بیکار اور بے مصرف وجود ہے مگر ہماری بادشاہت میں رحم اور مغفرت کے اظہار کے لئے تیرے جیسے آدمیوں کی بھی ضرورت ہے جن پر ہم بلا کسی عمل اور کام کے فضل کریں اور پنکھے بادشاہی احمدیوں کی طرح اُن کی شکم پروری کیا کریں اور انہیں دوسرے لائق ، کامی اور محنتی کارکنان کے ساتھ وابستہ کر کے محض اپنے فضل سے ہی نجات دیں) باقی حصہ نظم کا میں نے اٹھ کر اُسی وقت نظم کر دیا۔