بُخارِ دل — Page 128
128 ناسخ و منسوخ جس قدر قرآن ہے ہاتھوں میں تیرے اے عزیز! وہ عمل کرنے کے قابل ہے ہمارے سب کا سب ہو احکام وقتی میں تو ہے جائز جناب لیکن ایسا تیخ فرقاں میں نہیں موجود اب جمله كتب، وہ آخری کامل کتاب اُس کو تو منسوخ کہہ دے! شرم کر کے بے ادب اور اگر پوچھو کہ قرآں میں کہاں ہے یوں لکھا پھر تو ہو جاتا ہے تو سنتے ہی مَغْلُوبُ الْغَضَبْ آیتیں مضحت کی رڈی ہیں اگر اے بے نصیب تب تو تو نے کر دیا اسلام کو ہی جاں بلب پانچ سو ہیں، تین سو ہیں، ہو ہیں یا ہیں پانچ سات کتنی گل منسوخ ہیں؟ یہ بات بھی ہے حل طلب کیا ہی برتے پہ ہو تم مذگی ایمان کے دین کو لہو و لعب ثم نے بنایا ہے عجب ایک فرقاں ہے جو شک اور ریب سے وہ پاک ہے بعد اس کے جو بھی ہے۔ہے ظن غالب سب کا سب