بُخارِ دل

by Other Authors

Page 127 of 305

بُخارِ دل — Page 127

127 آئی اجل اتنی شتاب گویا کہ اک دیکھا تھا خواب ہم کو بھلا تھی کیا خبر ہیں وہ کھڑے پادر رکاب بے فکریوں میں ہم رہے۔بھٹی کو از ہے پانجاب وہ آسمانی آفتاب وہ مظہر ختمی تاب جب آ گیا حکم قضا بس ہوگیا زیر خراب دنیائے فانی ہے سراب اور زندگی مثلِ حباب یاں آئے ہیں سب اس لئے تا کچھ کمالیں دیں، ثواب کچھ پاک کرلیں نفس کو حتی تو ارث بالحجاب یا ربّ ہمارا آفتاب صلِ علیہ بے حساب مجلس میں تھے جو باریاب تھے بامراد و کامیاب تقوی کی تھی منہ پر نقاب دل عشق میں تیرے کباب مخمور تھے مدہوش تھے۔قر بانیاں تھیں لا جواب چلتا رہا دور شراب - حتی توارث پانحجاب احمد نبی تھا آفتاب کیسی دمک کیا آب و تاب اے دوستو ہمت کرو خدمت کرو لے لو ثواب نصرت کرو محمود کی برپا کرو اک انقلاب اسلام تا زندہ رہے روشن رہے یہ آفتاب دنیا کے آخر دن تلک -حتی توارث پانحجاب آمین (الفضل 6 فروری 1943ء)