بُخارِ دل — Page 124
124 عنایت کی نظر ہو کچھ کہ اپنی ہے حقیقت کیا تمہاری خاک پا ہم ہیں، ہماری کیمیائم ہو بھنور میں میری کشتی ہے بچا لوغز ق ہونے سے حوالے یہ خدا کے ہےاب اس کے ناخداتُم ہو شب تاریک و بیم موج و گردا بے چنیں ہائل“ مصائب خواہ کتنے ہوں ہمارا آسرا تم ہو ہر اک ذرے میں جلوہ دیکھ کر کہتی ہیں یہ آنکھیں تم ہی تم ہو م ہی تم ہو، خدا جانے کہ کیا تم ہو نی تیم اس ہاتھ کو چھوڑو، نہ ہم چھوڑیں گے یہ دامن غلامِ میرزا ہم ہیں، خدا ئے میرزا تم ہے الہی بخش دو میری خطائیں میری تقصیر میں کہ غفارُ الذُّنوب اور ماحی جرم و خطا تم ہو مناجاتیں تو لاکھوں تھیں مگر اک جنبش سر سے پسند اس کو کیا جس نے وہ میرے کبر یا تم ہو (الفضل 2فروری1943ء) 1 یہ مناجات بنا کر میں ایک دن آدھی رات کو اسے پڑھ رہا تھا جب اس شعر پر پہنچا تو مجھے انوار و برکات اور قبولیت کا بشدت احساس ہوا۔اس پر میں نے اُسی وقت آخری شعر میں اس کا ذکر کر کے مناجات کو مکمل کر دیا اور اسے الفضل میں چھپنے کے لئے بھیج دیا۔