بُخارِ دل

by Other Authors

Page 113 of 305

بُخارِ دل — Page 113

113 میں نے بھی دیکھا ہے اک ایسا عزیز بل تیری خاطر ہتھکڑی تھا چومتا سچ بتا دے جانِ من! کیا بات ہے؟ اس قدر کیوں وصل مشکل کر دیا؟ دیکھ کر عاشق کی عالی ہمتی عالم قیمت خود گفته ہر دو نرخ بالا کن که ارزانی ہنوز ·(4)۔۔يُوسُف کنعاں کی گاہک پیر زال اس سے بڑھ کر ہے عجب یاروں کا حال روئی کا گالا جو اک لائی تھی وہ کچھ تو اُس کے پاس تھا کہنے کو مال لیک ہم تو اپنے یوسف کے لئے ہاتھ خالی کر رہے ہیں قیل و قال ایک دِل بس كُلُّهُمْ اپنی متاغ اور ہے بدلے میں یوسف کا سوال ساتھ ہی یہ خبط بھی ہے موجزن ہم سے بڑھ کر کون ہے اہلِ منال وہ اگر ہے صاحب حسن و جمال ہم بھی اپنے گھر کے ہیں اہلِ کمال ہر دو عالم قیمت خود گفتم نقد دل دونوں سے ہے پر قیمتی نرخ بالا کن که ارزانی ہنوز ·(5)۔کیا مبارک یہ زمیں اور یہ زماں آئے ان میں احمد والا نشاں شمار برکتیں ہمراہ لائے بے عاشقوں نے حسن کا پایا نشاں ہو گئی تیری رضا ارزاں بہت باغ اُلفت سے اُڑی ساری خزاں 1 شیخ عبدالرحمان مہر سنگھ