بُخارِ دل — Page 112
112 تو نمک با ریختی در <mark>جا</mark>ن ما <mark>جا</mark>نِ <mark>جا</mark>نِ ماستی <mark>جا</mark>نان ما مرحبا! حق کے شہیدو! مرحبا خود کو بھیڑوں کی طرح کٹوا دیا ذکر شان هم می دهد یاد از خدا صدق و رزان در جناب کبریا جدا شہزادہ عبداللطیف جس نے آئین وفا زندہ کیا ظالموں نے ہڈیاں بھی توڑ دیں لیکن آخر تک یہی کہتا رہا شاد باش اے عشق خوش سودائے ما اے طبیب جملہ علت ہائے ما نعمت اللہ، نُور علی، عبدالحلیم لے کر گئے حق محبت بس ادا عاشقان را صبر و آرام گیا توبه از روئے دلآرا ما ک<mark>جا</mark> سے محفوظ تھے جو راستباز آفتیں اُن پر تھیں مرنے سے سوا زندگی گویا کہ قیمے کی مشین رات دن تلخی، مصیبت، ابتلا جرمِ اُلفت میں تیرے اے <mark>جا</mark>نِ <mark>جا</mark>ں ہر طرح کا دکھ شیاطیں نے دیا خونِ دل کھاتے تھے روٹی کی جگہ سیر بھی گر تھی تو پر یہ سب سہتے رہے تیرے لئے مرحبا صل علی صل علی قتل سیم کربلا گر قضا را عاشقی گردد اسیر بوسد آن زنجیر را کز آشنات 1 ان تینوں کو امان اللہ خان ، امیر کا بل نے سنگسار کیا تھا، بوجہ احمدیت کے۔2 الہام حضرت مسیح موعود