بُخارِ دل

by Other Authors

Page 108 of 305

بُخارِ دل — Page 108

108 دعائے مغفرت اے خدائے پاک، رب العالمیں العلمیں اے کہ تو میرا بھی رب ہے بالیقیں اے اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ہے تو ہی رزاق و ذُوالقوة متين جو بھی چاہے جس کو دے دے بے حساب کچھ کمی تیرے خزانوں میں نہیں ابن آدم کے مسترد کر دیے چاند اور سورج ستارے اور زمیں دودھ کو پستان میں پیدا کیا پیشتر اس سے کہ پیدا ہو جنہیں نعمتیں تیری گنے کیونکر بشر یاں تو عاجز ہیں خیار المرسلین میں بھی ڈر پر اک سوالی ہوں کھڑا ہاتھ خالی یاں سے دے بشارت عاقِبَتُ بالخَیر کی مُطْمَئِن ٹلنے کا نہیں ہو، تا مرا قلب حزیں خوف سے اور حزن سے آزاد کر خاکساروں کو نہ رکھ اند وہ گیں و ازل سے تا ابد قدوس ہے میں ہوں گندہ بلکہ ہوں گندہ تریں کیا شکایت غیر کی تجھ سے کروں نفس ہی اپنا ہے مارِ آستیں آتش دوزخ سے مل جائے اماں اُس کے سہنے کی مجھے طاقت نہیں ہو عذاب قبر، یا کثر و صراط سب مصائب سے بچا میرے تئیں میری ذلت اور تباہی دیکھ کر خوش نہ ہو کم بخت شیطان لعیں روح میری اے مرگی پاک کر چشم پوشی یا غَفُورَ الْمُڈ نہیں ور گزر نرمی بوقت احتساب از برائے رحمة للعالمین 1 خیار المرسلین کے معنی ہیں بڑے بڑے پیغمبر ، نہ کہ حضور اکرم حضرت محمد مص