بُخارِ دل

by Other Authors

Page 63 of 305

بُخارِ دل — Page 63

63 محبت کا ایک آنسو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ قیامت کے دن سات قسم کے آدمی عرش کے سایہ میں ہوں گے۔ان میں سے ایک وہ شخص ہو گا جس کے متعلق آنحضور فرماتے ہیں۔کہ رَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهِ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ “ یہ پر کیف نظم اسی تنہائی کے آنسو کی تعریف میں لکھی گئی ہے۔66 ہزار علم و عمل سے ہے بالیقیں بہتر وہ ایک اشک محبت جو آنکھ سے ٹپکا خراج حسن میں ہر جنس سے گراں مایہ مڈور عشق میں کیا خوب گوہر یکتا خلاصہ ہمہ عالم ہے قلب مومن کا خلاصہ دل مومن یہ اشک کا قطرہ نہ انفعال، نہ حسرت، نہ خوف و غم باعث وہ ایک اور ہی منبع ہے جس سے یہ نکلا نہ اس کے راز کو دو کے سوا کوئی جانے نہ یہ کسی کو خبر کب بنا - کہاں ڈھلکا جو جھلکے آنکھ میں تو مست و بے خبر کر دے گرے تو لیو میں ملائک اُسے لپک کے اٹھا نہیں زمانہ میں اس سا کوئی فصیح و بلیغ جو دل کا حال ہو دلبر سے اس طرح کہتا عرق ہے خونِ دلِ عاشقاں کا یہ آنسو یہی ہے نارِ محبت سے جو کشید ہوا یہ تحفہ وہ ہے جو خالص خدا کی خاطر ہے نہیں ہے اس میں ریا اور نفاق کا شعبہ ہے ملے گا اشک کی برکت سے عرش کا سایہ پناه تیزی خورشید روز محشر جو عین جاریہ درکار ہے اے زاہد خشک تو عین جاریہ اپنی بھی کچھ بہا کے دکھا میں کیا سر شک محبت تیری کروں تعریف کہ ذات باری نے خود تجھ کو دوست فرمایا (الفضل 23 اکتوبر 1924ء)