بُخارِ دل — Page 295
295 تم ہے مجھے دوستو کیا سناؤں اپنا حال سہہ رہا ہوں میں کیسا رنج و ملال باغ جب سے اُجڑ گیا میرا بس مصیبت نے مجھ کو آ گھیرا ایک نوکر کے یاں نہ ہونے سے کتنی تکلیف ہو رہی ہے گرچہ تاکیدی ایک خط لکھا تھا اُس کی تم نے مگر نہ کی پروا سے اب رکھے کیا کوئی اُمید ہم ہیں روزے سے تم مناؤ عید کیا سناؤں کہ کیا گزرتی زندگی مرتے جیتے کٹتی ہے جس گھڑی سے ہوا ہے 'باغ، رواں گل کھلا ہے عجب طرح کا یاں! دن شام کو جو آیا گھر فاقہ مستی کی کچھ نہیں تھی خبر سیدھا پہنچا میں ایک دوست کے ہاں تاکہ روٹی کا کچھ بنے ساماں جب تلک آدمی کوئی آوے کھانا تب تک مجھے وہ پہنچاوے اُن کے ہاں جا کے یہ ہوا معلوم کہ یہاں بھی امید ہے موہوم گھر میں اُن کے ہے سخت بیماری اس سبب سے انہیں ہے لاچاری تمام الغرض واں سے جب پھرا ناکام ضعف سے ہو رہا تھا کام دل نے آخر کہا کہ ہو ہشیار گھر میں سامان تو ہے سب تیار فائدہ کیا کہ یوں پھرے گھر گھر خود پکا لے تو اس سے کیا بہتر اُٹھ کے ہمت سے پھر گیا بازار انڈے لایا میں دے کے پیسے چارے 1 عجب زمانہ تھا، اُس وقت ایک پیسہ کا انڈہ آیا کرتا تھا۔آج 31 پیسے کا ایک آتا ہے۔( محمد اسمعیل پانی پتی)