بُخارِ دل — Page 294
294 گیا۔کئی سال ہوئے وہ فوت ہو چکا ہے اُس کا جانشین اُس کی قبر پر گدی نشین ہے۔مگر نہاتی زندہ ہے۔اس کی عمر ستر (70) سال سے متجاوز ہے۔نابینا ہوگئی ہے اور چراغ سحری ہے۔(30 دسمبر 1944ء) (2) واویلا 1905ء کا واقعہ ہے۔میں میڈیکل کالج لاہور میں پڑھتا تھا۔اور موری دروازہ کے اندرا کیلا ایک مکان میں رہتا تھا۔میرے پاس باغ نام ایک جولا ہے کا لڑکا کھانا پکانے پر نو کر تھا۔وہ اتفاق بیمار ہو کر اپنے گھر چلا گیا۔میں نے اگر چہ اس کے ہاتھ قادیان نہایت تاکیدی خط لکھ دیا تھا کہ کسی اور ملازم کو اُس کی جگہ بھیج دیں۔مگر تین دن تک کوئی نہ پہنچا۔21 جنوری 1905ء کی تاریخ تھی۔اور سخت سردی کا موسم تھا۔بارش ہو رہی تھی کہ میں نے یہ شکایت نامہ لکھ کر اپنے ایک عزیز محترم “ کے نام ڈاک میں روانہ کیا۔اور آج چالیس سال کے بعد 1944ء میں اسے شائع کرنے کی نوبت آئی۔لیجئے سنیے :- لے یہ عزیز محترم صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد تھے جو بعد میں ”خلیفہ المسیح الثانی کے نام سے تمام دنیا میں مشہور ہوئے۔بچپن میں دونوں آپس میں نہایت ہی گہرے دوست تھے اور یہ الفت و محبت آخر تک قائم رہی۔(محمد اسمعیل پانی پتی )