بُخارِ دل — Page 262
262 (121) أَلَا بِذِكرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ حقیقی چین دل کا ہے نہ دولت میں نہ شاہی میں نہ کھیلوں میں نہ نشوں میں نہ شوق مرغ و ماہی میں نه اطمینان قلبی مل سکے چاہت میں عورت کی تسلی دل کو ملتی ہے فقط یاد الہی میں (122) آج کل کے نوجوان کی حالت اور اُن کا سلوک ماؤں سے پیچ سب احسان ہیں شہوت سے ہے ساری غرض بن گیا معشوق وہ پہلو سے جس کے جالگے مشرکوں کی طرح ہے یہ ناخلف اولاد بھی پالا پوسا کس نے ؟ اور گھٹنے سے کس کے جالگے (123) تُراچه سید صاحب ! خود کچھ کر کے آپ بنومحمود ورنہ بڑوں کے عملوں پر تو شیخی ہے بے سود گیدڑ بھی تو شب بھر یونہی روتے پھرتے ہیں پدرم سلطان، پدرم سلطان ، پدرم سلطان بود (124) اشتیاق ملاقات جو آؤ تم میرے گھر میں تو پلکوں سے زمیں جھاڑوں اگر مہماں بنو دل میں تو اپنی جان تک واروں خدارا، اب زیادہ تو نہ تر ساؤ، نہ پھڑ کاؤ یہاں آ جاؤ خود ہی یا اجازت دو کہ میں آؤں (125) انسان کی حقیقت جو دو شرمگاہوں سے نکلے کوئی تو عزت بھلا اُس کی کیا رہ گئی؟