بُخارِ دل

by Other Authors

Page 261 of 305

بُخارِ دل — Page 261

261 (117) گاندھی جی کا برت گاندھی جی با علم و دانش زیر کی عز و وقار برت سے کرتے ہیں بر پاشورشیں یاں بار بار خود کشی کرنے سے ملتی ہیں کہیں آزادیاں؟ وائے بر علمے کہ عالم را کند بر باد و خوار (118) میرا نشیمن بیت مبارک میں اپنا جو ہے نشمین مسجد کی شہ نشیں ہے ہر مومن و مہاجر یاں میرا ہم نشیں تھی ہے منزل ہے برکتوں کی اللہ کا کرم یہ جاں مجو یاد جاناں ، دل یار سے قریں ہے (119) بُری عادتوں کو راسخ ہونے سے پہلے ترک کرو مقدر میں جو لکھا ہے وہ قسمت ٹل نہیں سکتی جبکن مل جائے گا لیکن جبلت ٹل نہیں سکتی ہمالہ تو ڑ نا آساں ہے عادت چھوڑ نا مشکل کہ ہو جاتی ہے جو راسخ و و علت ٹل نہیں سکتی (120) إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمُ نہیں معیار عزت کا حکومت حُسن یا لشکر نہ جاہ وقوم وطاقت ہے نہ اولا دوز رو گوہر خدا کے ہاں فقط پرسش ہے نیکی اور تقویٰ کی کہ جو تقوی میں ہوں برتر وہی عزت میں ہیں بڑھ کر 1 مسٹر گاندھی بار بار مرن برت کی دھمکیاں دے کر انگریزی حکومت کو مرعوب کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔2 حضرت میر صاحب عرصہ دراز تک نماز مغرب کے بعد عشاء کے وقت تک بیت مبارک قادیان کے شہ نشین پر بیٹھ کر اپنی نہایت پر معارف باتوں سے محظوظ کیا کرتے تھے اور لوگ بڑے شوق سے اس روحانی محفل میں شریک ہوا کرتے تھے (اسماعیل پانی پتی)