بُخارِ دل — Page 246
246 (38) مولوی محمد حسین بٹالوی کا ریویو براہین احمدیہ اک ریویو میں لکھا ایسا شیخ بٹالہ نے تھا اپنے قالی حالی مالی جانی کی خدمت دیں کی مرزا نے پچھلی تیرہ صدیوں میں تم ایسا کوئی تو دکھلاؤ نصرت کی ہو حق کی جس نے دامے درمے قدمے سخنے (39) مامورین کے مُخالف خدائی عذاب کو خود بلاتے ہیں خدا جب بھیج دیتا ہے زمانے کے مجدد کو تو پھر سمجھو ملے گی اب سزا ملائے مفسد کو مگر ظالم نکل کر حملہ کر کے خود ہی مرتا ہے کہ موت آتی ہے گتے کی تو بھاگے ہے وہ مسجد کو (40) مولوی ثناء اللہ بھی سلسلہ احمدیہ کا ہی ایک مبلغ ہے یہ کہہ رہے تھے کھڑے ایک دن ذکاء اللہ کہ ماسٹر تو ہیں تبلیغ کے عطاء اللہ یہ سن کے میں نے کہا ” ہو معاف بے ادبی ہے سلسلہ کا مبلغ بڑا ثناء اللہ (41) ایک دشمن کے حق میں جو موسی مر زا کہہ کر تمسخر کیا کرتا تھا تو نے انہیں اے بے حیا! جب ” موسیو مرزا “ کہا یا منہ سیہ تیرا ہوا یا منہ سیا تیرا گیا یعنی زباں بندی ہوئی سرکار کے گھر سے تری یا گر بچا اس سے تو پبلک میں بہت رُسوا ہوا