بُخارِ دل — Page 235
235 تصنیفوں میں دکھاؤ حقائق اگر جدید تب بندہ مان لے گا، کہ ہے عارفانہ رنگ بتلاؤ تو بنائے نئے کتنے احمدی؟ یا بیچنا کتابیں ہے بس غازیانہ رنگ مذہب ہی یاں عداوت محمود جس کا ہو بھیڑوں کا اُس کی پھر نہ ہو کیوں بھیٹر یا نہ رنگ بہتان اور طعن ہے پیغامیت کی جڑ کچھ فاخرانہ رنگ ہے کچھ عامیانہ رنگ تم کو زہے نصیب پشپ کا قلم ملا جس میں ہوائے نفس نے کیا کیا بھرا نہ رنگ دجال کا ایجنٹ چلاتا ہے جس سے کام دکھلایا تم نے اُس سے وہی ساحرانہ رنگ مارا ہے حُبّ جاہ نے تیرے صنم کو بھی بچ جاتا گر وہ رکھتا ذرا عاشقانہ رنگ دشمن تھا اہل بیت کا، مشہور تھا یزید اس کا تو آ رہا تھا نظر کوفیانہ رنگ کچھ دوست بھی بلا لئے اور حاوی ہو گئے جتلانے انجمن یہ لگے مالکانہ رنگ پر قادیاں نے خوب نکالا یزید کو حق نے عطا کیا ہے جسے خیر جانہ رنگ بلوے کئے ، فساد کئے ، شورشیں بھی کیں دکھلاتے ”نور دیں“ کو رہے باغیانہ رنگ شرمندہ ہو کہ تو بہ بھی کی بیعتیں بھی کیں مخفی کیا نفاق کو لیکن گیا نہ رنگ آخر کو چودہ مارچ کو بھانڈا گیا وہ پھوٹ! اُس دن سے پھر نہ رُوپ ہی باقی رہا نہ رنگ $2 جس بزم میں ہو بیعت و جنت کا لین دین کیا حرج ہے کہ اُس کو کہیں تاجرانہ رنگ صدیوں تلک تو اونچے ہی اونچے اڑیں گے ہم بدلے گا اتنا جلد نہ ہر گز زمانہ رنگ