بُخارِ دل

by Other Authors

Page 182 of 305

بُخارِ دل — Page 182

182 توجہ تضرع ہو، ہو، یقیں ہو کر ہو اور تہ دل کے ترانے دعائیں اگر لگ جائیں پے در پے نشانے قضا کو ٹال دیتی ہیں دُعائیں قبولیت کے قصے کیا سناؤں دکھائے تھے ہمیں جو میرزا نے مانگ لائی ایک محمود کیا یہ کام احمد کی دُعا نے خدا قسم ނ نشاں جتنے دکھائے اُس نے ہم کو وہ اکثر تھے دُعا کے شاخسانے حق کی نظر آیا وہ جلوہ کہ بس دکھلا دیا چہرہ خدا نے کروں تعریف میں کیونکر دُعا کی که هست او بر وجود حق نشانے اگر ہر موئے من گردد زُبانے بدو رانم ز هر یک داستانے خداوندا! میری بھی اک دُعا ہے کہ جس کو مانگتے گزرے زمانے رضا تیری ہمیں حاصل ہو دائم رضا ہی کے تو ہیں سب کارخانے حیات طیبہ دونوں جہاں میں خدا خوش ہو موافق ہوں زمانے آمین (الفضل18 جون 1943ء)