بُخارِ دل — Page 104
104 وہ صورت دیکھتے تھے جس کو ہر روز کچھ ایسی آپ نے ہم سے چھپائی کہ آنا خواب تک میں بھی قسم ہے نہ تھی گویا کبھی بھی آشنائی یر خم یا نبی اللہ! رحم دہائی یا رسول اللہ ! دُہائی درونم خون شد در یادِ جاناں زبانم سوخت از ذکر جدائی کہیں ہم کس درد نهانی ނ تیرے مسیح مسیحا معجزہ اپنا دکھا رو قادیانی دعا دو اور مریضوں کو شفا دو میرے دل کی لگی اب تو بجھا دو پس پردہ ہی اک جلوہ دکھا دول غم روز حساب و دردِ أمراض یہی اب رہ سفارش سے وَاِنْ تَغْفِرُ لَهُم کی گنه گئے ہیں میرے خدا سے 1 آشنا دو بخشوا دو کرو کچھ نفخ دَم رُوح القدس کا اور اک بگڑی ہوئی قسمت بنا دو ہے سنا کہ قُم باذن الله چلا دو تمہاری جنبش لب پر نظر کرو لله اتنی مہربانی میرے تحسین مسیح قادیانی 1 یہ نظم لکھ کر میں نے حضرت مسیح موعود کو خواب میں دیکھا آپ نے مجھے ایک چھڑی دستی عطافرمائی اور کہا کہ تم ان کو یعنی حضرت ( اماں جان۔ناقل ) کو آج سیر کرالا ؤ تین دن تک تو میں ان کے ساتھ سیر کو جاتارہا آج تم ساتھ جاؤ اور شاید یہ کہا کہ مجھے فرصت نہیں ہے۔