بیگمات حضرت سیّد محمد سرور شاہ صاحب — Page 7
بیگم سید محمد سرور شاہ صاحب تو جمعرات کے روز آجائیں۔7 بابا جیون بٹ صاحب، میاں غلام رسول حجام سکنہ امرتسر (صحابی) کے ہمراہ جمعرات کو قادیان آگئے۔میاں غلام رسول بہت مخلص تھے۔اُن کی باباجی نے یتیمی کی حالت میں پرورش کی تھی۔ظہر کی نماز کے وقت حضرت مولوی صاحب نے حضور علیہ السلام سے مشورہ مانگا۔اور حضور علیہ السلام نے اس رشتہ کی اجازت عنایت کی۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے حضور علیہ السلام کی موجودگی میں نکاح پڑھا اور بغیر ہو اتھے دو سو روپیہ مہر مقرر کیا۔حضور علیہ السلام بھی دعا میں شریک ہوئے۔نکاح کے بعد حضرت سید سرور شاہ صاحب نے دریافت کیا کہ رختانہ پر کیا لا نا چاہیے۔بابا جی نے کہا ”ہم سب کچھ دیں گے ! آپ کچھ بھی نہ لائیں اور پندرہ دن میں رخصتانہ کر دیں گے ! یہ وہ زمانہ تھا جب اس پاک بستی کے رہنے والے ایک ہی کنبہ کی طرح رہتے تھے۔حضرت شاہ صاحب کے پاس رخصتانہ پر خرچ کرنے کے لئے ایک پیسہ بھی نہ تھا۔حضرت حکیم فضل الدین صاحب جو مہمان خانہ کے چوبارہ میں رہائش رکھتے تھے ، نیچے تشریف لائے۔اور آپ کو دیکھ کر کہا معلوم ہوتا ہے کہ آپ رخصتانہ کے لئے جارہے ہیں اور دس روپے دیئے ( اس وقت کے دس روپے آج کے ہزاروں کے برابر ہیں )