بے پردگی کے خلاف جہاد

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 29

بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 3

خاص تعلقات کا علم حاصل نہیں ہوا۔اپنی زینت ظاہر کریں۔ان کے سوا کسی پر نہ ظاہر کریں۔اور اپنے پاؤں ( زور سے زمین پر ) اس لئے نہ مارا کریں کہ وہ چیز ظاہر ہو جائے جس کو وہ اپنی زینت میں سے چھپا رہی ہیں۔اور اے مومنو! سب کے سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔پھر فرمایا:- یہ وہ آیات ہیں جن میں پردے کے تفصیلی حکم کا ذکر ہے۔مجھے ان آیات کی تلاوت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ میں کچھ عرصے سے محسوس کر رہا ہوں کہ اسلام پر جو بلائیں ٹوٹ رہی ہیں ان میں سے ایک بہت بڑی بلا بے پردگی ہے۔مختلف جہتوں سے مختلف شکلوں اور مختلف بہانوں سے یہ بلا مسلمان عورتوں پر ٹوٹ رہی ہے اور دُنیا کے اکثر ممالک میں مسلمان عورت پردے سے باہر آگئی ہے۔یہاں تک کہ بعض مسلمان ممالک میں تو یہ فتویٰ بھی دیا جانے لگا ہے کہ پردہ حرام ہے۔چنانچہ ابھی چند دن ہوئے لیبیا میں یہ فتویٰ شائع کیا گیا کہ اسلام میں پردہ نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں بلکہ حرام ہے۔اور اب کوئی عورت پردہ نہیں کرے گی اور جو کرے گی وہ قانون شکن ہو گی۔بہر حال وہ مسلمان ممالک جو اسلام کے پاسبان سمجھے جاتے تھے خودان ممالک میں بھی یہ وبا اس شدت کے ساتھ پھیل رہی ہے کہ قرآن کریم کے احکام کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ انکو بالکل الٹایا جارہا ہے۔صرف احمدی عورت ایسی عورت تھی جس سے یہ توقع تھی کہ وہ اس میدان میں جہاد کا بہترین نمونہ دکھائے گی اور بھاگنے والوں کے قدم روکے گی اور بازی جیت کر دکھائے گی۔لیکن بڑی حسرت اور بڑے دُکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ خود احمدی خواتین نے بھی اس میدان میں کمزوری دکھانی شروع کر دی۔رفتہ رفتہ بے پردگی کی یہ 3