بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 4
و با پھیلتی رہی پہلے یہ بڑے شہروں سے شروع ہوئی اور پھر چھوٹے قصبات میں بھی جا پہنچی اور یہ محسوس ہونے لگا کہ گویا اس میدانِ جہاد میں ہم بازی ہارر ہے ہیں۔اس لئے میں نے یہ محسوس کیا ہے اور بڑی شدت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ تحریک ڈالی ہے کہ احمدی مستورات کا اعلان کریں۔کیونکہ اگر آپ نے بھی یہ میدان چھوڑ دیا تو پھر دُنیا میں اور کون سی عورتیں ہوں گی جو اسلامی اقدار کی حفاظت کے لئے آگے آئیں گی۔بے پردگی کے جواز میں مختلف بہانے اور عذرات تراشے جاتے ہیں۔ان کی داستان لمبی ہے۔لیکن میں نے یہ دیکھا کہ اب سب سے زیادہ جس چور دروازے سے بے پردگی نے حملہ کیا ہے وہ چادر ہے۔چادر جس کا مقصد قرآن کریم کی رُو سے پردہ ہے بالکل بر عکس مقصد کے لئے استعمال ہونے لگی ہے۔اس سے انکار نہیں کہ چادر کا پردہ اسلامی پردہ ہو سکتا ہے لیکن کن حالات میں اور کس حد تک یہ پردہ، پردہ رہتا ہے اسکی وضاحت کی ضرورت ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں پردے کے جو احکامات ہیں انکے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔یہ معاملہ میں نے مجلس افتاء کے سپرد کیا۔اور گذشتہ چھ ماہ سے یہ معاملہ تفصیلاً زیر غور ہے۔پردہ سے متعلق تمام آیات قرآنی کو اکٹھا کرنے اور ان پر غور کرنے کے علاوہ تمام متعلقہ احادیث کا مطالعہ کیا گیا۔اسلامی تاریخ میں مختلف وقتوں میں پردے نے جو شکلیں اختیار کیں ان کو بھی زیر نظر رکھا گیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے جملہ اقتباسات پر بھی غور کیا گیا اور خلفائے سلسلہ احمدیہ مثلاً حضرت خلیفتہ مسیح الا ول رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پردے کے متعلق جن خیالات کا اظہار 4