بے پردگی کے خلاف جہاد

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 29

بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 15

یہ عجیب رسول ہے جو لوگوں کو تو عدل پر قائم کرتا ہے لیکن اپنا یہ حال ہے کہ اموال غنیمت اپنے رشتہ داروں اور اقرباء کو دے دیئے ہیں حالانکہ خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔یہ سُن کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بہت رنجیدہ خاطر ہوئے۔لیکن آپ اس قسم کی باتوں کے عادی تھے اس لئے اس کی بات کی کوئی پرواہ نہ کی۔آپ نے انصار اور مہاجرین کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے جب انصار نے یہ بات سنی تو وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور کہا یا رسول اللہ! اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔ہم میں سے ایک جاہل نے یہ بات کہی ہے۔آپ نے فرمایا سنو تو سہی۔اس نے یہ دیکھا اور اس کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا ہوا۔میر افرض ہے کہ میں بتاؤں میری کیا نیت تھی۔آپ نے فرمایا میرا یہ فیصلہ تھا کہ اب میں اس وطن یعنی مکہ میں نہیں ٹھہروں گا جہاں سے نکالا گیا تھا۔بلکہ میں ان انصار بھائیوں میں واپس چلا جاؤں گا جنہوں نے ہجرت کے وقت میری مدد کی تھی۔اس لئے میں نے سوچا کہ مال غنیمت اور دُنیا کی چیزیں ان لوگوں کو دے جاؤں اور خدا کا رسول تمہارے ساتھ چلا جائے۔پس تم یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ مہاجرین مال مویشی ہانک کر لوٹ رہے ہیں اور ہم محمد رسول اللہ کو ساتھ لے کر جارہے ہیں۔جن کی خاطر کائنات کو پیدا کیا گیا ہے۔الغرض ایک رد عمل ایسا بھی ہوتا ہے۔ایک بچی کے والد نے مجھے خط لکھا کہ میں نے ۵۲ سال حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ زندگی کا وقت گزارا۔آپ بڑے ہی محسن تھے۔بڑا ہی احسان کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔پھر سترہ سال میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث" کے ساتھ وقت گزرا۔آپ بھی بڑے محسن تھے اور بہت ہی احسان اور شفقت کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔اس کے بعد یہ خطا ختم ہو گیا۔مجھے اللہ تعالیٰ نے بصیرت عطا فرمائی ہے اور میں خاموش زبان کو 15