بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 7
اسکی عورتیں اپنے چہرے کو ڈھا نہیں اور سنگھار وغیرہ کر کے باہر نہ نکلیں۔اگر وہ بے مقصد اور بے ضرورت باہر نکلیں گی تو اس سے سوسائٹی کو شدید نقصان پہنچے گا۔اور آج کل جب کہ ہر طرف گندگی پھیل رہی ہے اور گھروں کا امن اُٹھ رہا ہے۔زیادہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی عورتیں پورا پردہ کریں۔جہاں تک بُرقع کا تعلق ہے یہ ٹھیک ہے کہ وہ معین طور پر اسلامی پردہ نہیں۔لیکن حالات اور موقع کے مطابق خلفاء کا یہ کام رہا ہے اور یہ فرض ہے کہ وہ اس معاملہ میں انتظامی فیصلہ کریں۔اگر ایک سوسائٹی میں برقع رائج ہے اور چادر اس کی جگہ لے رہی ہے تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ اس طرح اسلامی پردے کی رُوح کو کوئی نقصان پہنچتا ہے یا نہیں۔اگر اس سے نقصان نہیں پہنچتا تو اسکا فیصلہ یہی ہوگا کہ چادر لینے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر واضح طور پر اور یقینی طور پر قدم ضلالت اور گمراہی کی طرف اُٹھ رہے ہوں اور یہ خطرہ ہو کہ رفتہ رفتہ پردہ بھی اٹھ جائے گا صرف بُرقع نہیں اُٹھے گا۔اس وقت خلیفہ اگر قدم نہیں اُٹھاتا تو وہ مجرم ہو گا اور خدا کے سامنے جواب دہ ہوگا۔پس میرا فرض ہے کہ ان تمام حالات پر غور کرنے کے بعد کوئی انتظامی فیصلہ کروں۔بُرقع کے حالات بعض سوسائیٹیوں میں بہت اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ برقع سے باہر آنے والا رخ کیا ہے اور بُرقع کے اندر داخل ہونے والا رخ کیا ہے؟ یہ دو مختلف اور متضاد شکلیں ہیں جو میں آپ کے سامنے کھول کر رکھنی چاہتا ہوں۔بعض سوسائیٹیوں میں نسلاً بعد نسل بُرقع رائج رہا ہے۔مثلاً حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان ہے۔ہم نے حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا اور آپکی اولاد کو دیکھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی اولا د کو دیکھا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی اولاد، 7