بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 5
فرمایا ان کو بھی زیر غور لایا گیا۔ان تمام باتوں پر غور کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ اسلام مختلف سوسائیٹیوں اور ان کی ترقی کی مختلف حالتوں کے پیش نظر اور پھر انسانی ضروریات اور کسی سوسائٹی کے عمومی حالات اور کردار کے پیش نظر مختلف قسم کے پردوں کی توقع رکھتا ہے۔یہ ایک ایسا عالمگیر مذہب ہے جو پردے کی ہر امکانی ضرورت کو مد نظر رکھتا ہے اور کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں ہے جو دُنیا کی کسی قوم پر وارد ہوا ہو اور اس کا جواب قرآن کریم اور سنت نبوی میں نہ ملتا ہو۔مثلاً ہمارے دیہات میں چادر کا پردہ رائج ہے۔اس میں گھونگھٹ ہے اور جہاں تک ممکن ہو دائیں بائیں سے چادر کو لپیٹ کر چہرے کو ڈھانپا جاتا ہے۔اس قسم کے پردے میں شرم و حیا سے چلنے والی عورتیں ہیں جو خاوندوں کو روٹی پہنچانے کے لئے کھیتوں میں جاتی ہیں۔پانی بھر نے باہر نکلتی ہیں۔اسلام کے نزدیک یہ استثناء نہیں ہے۔بلکہ اسلامی پردے کے بنیادی تخیل کا حصہ ہے۔اور قرآن کریم اس کے متعلق وضاحت سے بیان کرتا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مضمون خوب کھول کر بیان فرمایا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ان آیات کی روشنی میں جو میں نے شروع میں پڑھی تھیں، بیان فرمایا کہ ایک پردہ یہ ہے کہ اپنے چہرے کو دائیں بائیں سے ٹھوڑی تک پوری طرح ڈھانک لیا جائے اور ماتھے کو بھی پوری طرح ڈھانک لیا جائے۔کوئی ایسا سنگھار نہ کیا جائے جس کے نتیجے میں خواہ مخواہ بدلوگوں کی نظروں میں انگیخت پیدا ہو۔جو عورتیں ان سوسائیٹیوں میں وقار اور تحمل کے ساتھ بغیر کسی سنگھار کے انسانی ضروریات کی خاطر باہر نکلتی ہیں وہ اسلامی پردہ کر رہی ہیں۔وہ پردہ کے قانون کے اندر داخل ہیں۔استثناء تو وہ ہوتا ہے جو قانون کے خلاف ہو۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس تشریح کے ساتھ بیان فرمایا کہ یہ وہ پردہ ہے 5