بیت بازی — Page 44
در شمین ہے عام اُس کی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہمیں اس کی صفت اس سے کر و محبت ہے عجب میرے خدا میرے یہ احسان تیرا کسی طرح نیت کر کمروں اے میرے سلطاں تیرا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے تیرے دیدار کا ہیں تری پیاری نگا ہیں دلیرا ایک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا ہم تو ر تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دلی سے ہیں خدام ختم المرسلین ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد ا نہ پایا ہم نے انه ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسیل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ صدا نیز بیضا نکلا حمود کفر سے زور آزما احمدی کی روح ایمانی تو دیکھ ہے ہے امن کا داروغہ بنایا جنہیں تو نے خود کر رہے ہیں فتنوں کو آنکھوں سے اشارے ہمت نہ ہار اس کے کرم پر نگاہ رکھ مایوسیوں کو چھوڑ وہ رب غفور ہو جائیں جس سے ڈھیلی سب فلسفہ کی چولیں میسر حکیم ایسا بریان مجھ کو دے دے ہے خواہش میری الفت کی تو اپنی نگاہیں اونچی کہ تدبیر کے جالوں میں مت پھنس کر قبضہ جا کے مقدر پر ہے چیز تو چھوٹی سی مگر کام کی ہے چیز دل کو بھی میرے اپنی اداؤں سے لبھائیں ہے زندگی میں دخل نہ کچھ موت پر ہے زور تو چیز کیا ہے ایک سر پر مغرور ہے کلام طاهر ہیں جان وسیم ، سو تری گلیوں پر ہیں بشار اولاد ہے، سو وہ ترے قدموں پہ ہے خدا ہو اجازت تو تیر سے پاؤں پہ سر رکھ کے کہوں کیا ہوئے دن تیری غیرت کے لکھنے والے تیرے ہم نہ ہوں گے تو میں کیا؟ کوئی ہم کیا دیکھے آج دکھلا جو کھاتا ہے دکھانے والے محل ہم نے تو مہر و توکل سے گزاری باری ہاں باب مگر تم یہ بہت ہوگئی یہ بھاری باری ہر موج خون گل کا گریباں ہے چاک چاک پر ملی بدن کا پیر ئن من اُداس ہے