بیت بازی — Page 43
۴۳ وہ 13۔، تو چکا ہے نیز اکبر اس سے انکار ہو سکے کیوں کہ وہ بنتی ہے ہوا اور سرخس رہ کو اڑاتی ہے وہ ہو جاتی ہے آگ اور ہر مخالف کو جلاتی ہے وہی اس کے مقرب ہیں جو اپنا آپ کھوتے ہیں نہیں رہ اس کی عالی بارگہ تک خود پسندوں کو ، نام وہ نمود وہ دولت نہیں رہی وہ عزم مقبلات وہ ہمت نہیں رہی وہ علم دہ صلاح وہ عفت نہیں رہی وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی وہ وه کلام محمود وہ اگر خالق ہے میں ناچیز سی مخلوق ہوں ہر گھڑی محتاج ہوں اس کا وہ ہے پر ور دگار نصیبہ ہے ترا اے میرے پیارے عیسی فر سمجھیں تری تقلید کو ابن مریم وہ شمع رو کہ جسے دیکھ کر ہزاروں شمع بھڑک اُٹھی تھیں کبسوز ہزار پروانہ وہ آئے اور عشق کا اظہار کر دیا پڑھتے رہے اندھیرے میں چھپ کر نماز ہم وہ دل مجھے عطا کر جو ہو نثار جاناں جو ہو فدائے دلبر وہ جان مجھ کو دے کلام طاهر وہ پاک معتمد ہے ہم سب کا حبیب آقا انوار رسالت ہیں جس کی چمن آرائی را در گرید ، گشا دیده و دل ، لب آزاد کیس مزے میں ہیں ترے خاک نشیں آج کی رات وہ ماہ تمام اُس کا مہدی تھا علامہ اس کا روتے ہوئے کرتا تھا وہ ذکر مدام اس کا دو میں کی رحمت کے سائے یکساں ہر کا کم بچھائے وہ میں کو اللہ نے خود اپنی رحمت کی برداری کایا دور احسان کا افسوں ٹھنوں کا موہ لیا دل اپنے کنڈ کا کب دیکھا تھا پہلے کسی نے حسن کا پیکہ اس خوبو کا در عدن وہ رحمت عالم آتا ہے تیر ور رحمت امام یا اس سے تیرا ہو جاتا ہے تو بھی انسان کہلاتی ہے سب حق تیرے دلاتا ہے والی بنو امصار علوم دو جہاں کے اے یوسف کنعاں خدا حافظ و ناصر بخار دل ده نظیر حضرت احمد بنی ، وہ ہے علم کلام کا رہبر شاہد گلفام ہے میرے خدا اور مقابل میں جو ہے اجہل ہے وہی ماموں کی قربانی پر ہوسکتے ہیں آمادہ ہیں جن کی ہمتیں عالی ہے جن کی زندگی سادہ