بیت بازی — Page 42
را کلام طاهر نیوں نے سجائی تھی جو بریم مہ و انجم والله اس کی تھی سب انجمن آرائی نبیوں کا امام آیا، اللہ امام اس کا سب تختوں سے اونچا ہے تخت عالی متظام اس کا ناگاه تیری یاد نے یوں دل کو بھر دیا گویا سمٹ گیا اُسی کوزہ میں نور شب نحیف ہونٹوں سے اُٹھی ندائے استغفار نوائے تو یہ تھی اللہ کی قسم اعجاز نام محمد کام مکرم صلی اللہ علیہ وسلم - بادی کامل زہیر اعظم صل اللہ علیہ وسلم در عدن نه روک راہ میں مولا شتاب جانے دے کھلا تو ہے تیری جنت کا باب جانے دے نہ کیوں دلوں کو سکون وسرور ہو حاصل که قرب خطہ رشک جناں میں رہتے ہو نازاں ہے اس پر جن کو فصاحت عطا ہوئی جادر بیاں کو اپنی طلاقت پہ ناز ہے بخار دل نالہ نیم شبی اتنا موثر تھا مرا آپ بھی سُن کے کبھی سر کو ملادیتے تھے نہ وہ زمیں ہی رہی پھر نہ آسماں وہ رہا بس اک خیال رہا یہ کہ خواب تھا سارا نکل کے خلد سے دیکھا تھا جو کہ آدم نے دکھا دیا وہی قسمت نے ہم کو نظرا نام لکھوا کہ مسلمانوں میں تو خوش ہے عزیز پر میں سچ کہتا ہوں میں یہ خون دل کھانے کے دن نام تک اس کا مٹا دینے میں ہے تو کوشاں اس کا ہر بار حمر آگے ہی پڑتا ہے قدم درتمين وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر مرا ہی ہے وہ یار لا مکانی وہ دلبر نہانی دیکھا ہے ہم نے اس سے بس رہنما ہی ہے وہ آج شاہ دین ہے وہ تاج مرسلیس سے وہ طیب دا میں ہے۔اس کی ثنا ہی ہے دلبر یگانہ علموں کا ہے خزانہ باقی ہے سب خانہ سچ بے خطا ہی ہے