بیت بازی — Page 29
۲۹ در عدن ظاہر میں اُسے غیر کو میں سونپ رہا ہوں کرتا ہوں حقیقت میں مگر تیرے حوالے بخار دل میں فرق ہے معنوں میں پر بے انتہا ظاہری سے ہے ا گئی اپنی ہی زندگی اُسے جنجال ہوگئی ظلم وستم سے دہر کے پامال ہوگئی ع در همين عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ عیاں کر اُن کی پیشانی پر اقبال ! نہ آوے اُن کے گھر تک رعب دبال عدد جب بڑھ گیا شورد فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں : عزت و ذلت یہ تیرے حکم پر موقوف ہیں تیرے فرماں سے خزاں آتی ہے اور باد بہار عقل پر پردے پڑے سو سو نشان کو دیکھ کر زور سے ہو کر انگ چاہا کہ میں اہل نار! عاشقی کی ہے علامت گرید و دامان دشت کیا مبارک گھی تیرے لئے ہو اشکبار عشق ہے جس سے ہوں لے یہ سارے پاگل پر خطر عشق ہے جو سر جھکائے زیر تیغ آبدار یہ عمر دے رزق دے اور عافیت و صحت بھی سب سے بڑھ کر یہ کہ پا جائیں وہ عرفاں تیرا عقل رکھتے ہو آپ بھی سوچو کیوں بھروسہ کیا ہے دیدوں کا اس جہاں کو بقا نہیں پیارو میش دنیا سدا نہیں پیارو را نہیں پیارو اِس جہاں کلام محمود عقیدہ ثنویت ہو یا کہ ہو تثلیث ہے کذب بحث و خطا لا الہ الا الله عطا کر ان کو اپنے فضل سے صحت بھی اسے مولا ہمیشہ ان پر برسا ابر اپنے فضل درحمت کا تم سے بتاؤ کام ہے کیا اس جوان کا میٹی تو تھا خلیفہ موسیٰ او جاہلو