بیت بازی

by Other Authors

Page 28 of 52

بیت بازی — Page 28

T دشمین ظ ظہور عون و نصرت دم بہ دم ہے حد سے دشمنوں کی پشت خم ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں ظاہر ہے یہ کہ قصوں میں ان کا اثر نہیں افسانہ کو کو راہ خدا کی خبر نہیں کلام محمود ظاہر میں سب ابرار میں باطن میں سب اترا ہیں مصلح ہیں پر بد کار میں ہی ڈاکٹر ہر زار میں ظلمتیں کافور ہو جائیں گی اک دن دیکھنا میں بھی اک نورانی چہرہ کے پرستاروں میں ہوں ظاہری دکھ ہو تو لاکھوں میں خدائی موجود دل کے کانٹوں کو مگر کون نکالے پیارے ظلمت و تاریکی و ضد و تعصب مٹ چکے آگئے ہیں اب خدا کے چہرہ دکھلانے کے دن ظلم کرتے ہیں جو کہتے ہیں شفق پھولی ہے تم نے عاشق کا ہے یہ خونِ تمنا دیکھا ظہور مہدی آخر زماں ہے سنبھل جاؤ کہ وقت امتحان ہے ظلمتوں نے گھیر رکھا ہے مجھے پر غم نہیں دور اُفق میں جگمگاتا چہر مہتاب ہے رنج و غم و درد سے محفوظ رہو مہر انوار درخشندہ رہے شام نہ ہو ظاہر میں چپ تھے لیکن دل خون ہو رہا تھا افسردہ ہو رہا تھا مخرون ہو رہا تھا ظلم وستم وجود بڑھے جاتے ہیں حد سے ان لوگوں کو اب تو ہی سنوارے تو سنوارے فلمیں آپ کو سمجھتی نہیں میرے پیارے پردے سب چاک کریں چہرہ کو ننگا کر دیں کلام طاهر ظاہر ہوا وہ جلوہ جب اس سے نگہ پلٹی خود حُسنِ نظر اپنا سوچند نکھار آئی ظالم بد بخت کا نام نہ لے لیں مظلوموں کی باتیں کر حاکم کا ذکر نہ چھیڑ اندوہ محکوموں کی باتیں کر ظالم مت بھولیں بالآخر منظوم کی باری آئے گی مکالموں پر نماز کی ہر بازی کٹائی جائے گی تعلیم ہوں گے رسوائے جہاں مظلوم بنیں گے آن وطن اے میں سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یاران وطن