بیت بازی — Page 26
صحن گلشن میں وہی پھول کھلا کرتے ہیں چاند راتیں ہیں وہی ، چاند ستارے ہیں وہی میلوں کے مردوں کا بھی تسل علینہ کیف سخنی موت کے چنگل سے انسان کو دلوانے آزادی آیا صبر کی کرتا ہے تلقین وہ اوروں کو مگر کاش اُس کو بھی تو اس غم سے قرار آجائے در عدن صد کوه مصائب کی بھی پروا نہیں کرتا وہ سر کہ اٹھا جس نے لیا بار محبت بخار دل صفائے ظاہر و باطن حکومت و حکمت اگر ہو قال میں عظمت تو حال میں برکت صدق اور اخلاص اور ہر دم دعا ہے نشان مومنان قادیاں کلام محمود ض ضیاء مہر ہے ادنی سی اک جھلک اُس کی نہ جس کو دیکھ سکا میں وہ آفتاب نہ تھا کلام طاهر ضرور مہدی دوراں کا ہو چکا ہے ظہور ذرا سا نور فراست نکھار کر دیکھو در عدن قسط کی شان کچھ اس طرح نمایاں ہو جائے آپ سے آپ ہی دشمن بھی ہراساں ہو جائے بخار دل ضلالت تھی دنیا پہ وہ چھا رہی کہ توحید ڈھونڈے سے ملتی نہ تھی