بیت بازی — Page 22
۲۲ معدن احمد زندگی میری کہئے گی خدمت اسلام میں وقف کر دوں گا خدا کے نام پر جان حزبیں زندگی بخش جام احمد ہے چشمہ سبیل ہے زغم جیگر کو مرہم وصلت لے گا کب ٹوٹے ہوئے دلوں کے سہارے کب کہیں گے بخار دل زکو تو مال سے گر تزکیہ حاصل نہ ہو دل کا تو گویا دے کے سونے کو لیا بدلے میں نہیں ہے زنده عشق ہوئے داخل زنداں ہو کر قرب دلدار ملا یار پہ قرباں ہو کر زمزمہ اپنا ہے تبلیغ حق باعث رشک عنادل ہو گیا در تمين س سب خشک ہو گئے ہیں جتنے تھے باغ پہلے ہر طرف میں نے دیکھا بستان مرا ہی ہے سب دیں ہیں اک فسانہ مشرکوں کا آشیانہ اس کا جو ہے یگانہ چہرہ نما ہی ہے سوسونشاں دکھا کر لاتا ہے وہ بلا کر مجھ کو جو اس نے بھیجا بس مدعا یہی سر زمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھے کو دی جیسے ہوئے برقی کا اک دم میں ہر جا انتشار سنو ذاتِ الہی ہے عجب ذات رحیمانہ یہ قرآن کریم اس کا ہے انعام کریمانہ سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے جان و دل اس راہ پر قربان ہے سب خیر ہے اسی میں کہ اس سے لگاؤ دل ڈھونڈو اُسی کو یارو بتوں میں وفا نہیں سو چھ دعائے فاتحہ کو پڑھ کے باربار کرتی ہے یہ تمام حقیقت کو آشکار سب پر یہ اک جا ہے کہ وحدت نہیں رہی اک پھوٹ پڑ رہی ہے کہ مودت نہیں رہی كلام محمود سر میں نخوت نہ ہو آنکھوں میں نہ ہو برق خضب دل میں کینہ نہ ہو لب پر کبھی دستنام نہ ہو ساتھ ہی چھوڑ دیا سب نے شب ظلمت میں ایک آنسو ہیں لگی دل کی سمجھانے والے سر ہے پر فکر نہیں دل ہے پر امید نہیں اب میں بیس شہر کے باقی رہی ویرانے دو