بیت بازی — Page 17
16 د عدن درد میں ڈوبی ہوئی تقریر سن سن کر جسے لوگ روتے تھے ملائک کہہ رہے تھے آفریس دشمنوں کے دار چھاتی پر لئے مردانہ وار پشت پر ڈتے رہے ہر وقت بار استین بخار دل دعا مانگو دعا مانگو ہمیشہ یہ دعا مانگو کہ دنیا میں نہ ہو ذلت کہ عقبی میں نہ ہو خواری دوائے دل شفائے دل جلائے دل صفائے دل وفائے دل سخائے دل ہدائے دلی فضائے دل دل نمازی کا گرفت بر گنہ کیونکہ ہو جب اس میں ہر دم یاد مولا کی رچاتی ہے نماز در مشمین ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرے اے ناندا آگیا اس قوم پر وقت خزاں اندر بہار ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرے اے ناخدا آگئے اس باغ پر اے یار مرجھانے کے دن ڈگلس پر سارا حال بریت کا کھل گیا عزت کے ساتھ تب میں وہاں سے بری ہوا ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے اگر سوچو یہی دارا لیتا ہے! ڈھونڈو وہ راہ میں سے دل وسینہ پاک ہو نفس کنی خدا کی اطاعت میں خاک ہو علام محمود ڈرتا ہوں وہ مجھے نہ کہے بازبان حال جاؤں کبھی دعا کو جو اس کے مزار پر ڈھونڈتی ہیں مگر آنکھیں نہیں پائیں ان کو ہیں کہاں وہ مجھے روتے کو ہنسانے والے ڈوبا ہوں بھر عشق الہی میں شادی میں کیا دے گا خاک قائدہ آب بقا مجھے ڈھونڈتی ہے جلوۂ جاناں کو آنکھ چاند سا چہرہ ہمیں دکھلائے کون ڈھونڈتا پھرتا ہے کونہ کونہ میں گھر گھریں کیوں اس طرف آئیں پتہ دوں تجھ کو تیرے یار کا شروع میں آپ شاد تخلص کرتے تھے