بیت بازی — Page 18
A ڈلہوزی دشملہ کی تو ہے یاد ہوئی محمو ہے خواہش کشمیر جو مٹتے نہیں ملتی ڈھانچتے رہتے ہیں ہر دم دوسروں کے عیب کو میں چھپاتے رہتے وہ دنیا جہاں کے عیب کو ڈوئی قصوری دہلوی لیکھو و سومراج ساروں کو ایک وار میں اُس نے گرا دیا ڈالتا جا نظر مہر بھی اس غمگین پر نظر قہر سے مٹی میں لانے والے ڈھونڈتے ہیں تجھی کو کیوں سارے جہاں کے ابتلا پیتی ہے تجھی کو ہاں گردش آسمان کیوں ڈھونڈتی پھرتی تھی شمع نور کو محفل کبھی اب تو ہے خود شمع کو دنیا میں محفل کی تلاش ڈر کا اثر ہو ان پر نہ لالچ کا ہو اثر ہوش آئیں جن کو ایسے یہ مخمور ہی نہیں كلام طاهر ڈاکٹرز نے تو تھا یہ ڈی یا منورہ اور نیب کا بچہ ہوا بھی تو معذور ہی ہو گا۔پر یہ بھول نہ نکل سچا ڈوب جاتا اسی خونا بہ میں افسانہ عشق آنکھ کھلتی تو بس ایک خواب سا دیکھا ہوتا در تمرين ہوتا ز ذلت ہیں چاہتے یہاں اکرام ہوتا ہے کیا مفتری کا ایسا ہی انجام ہوتا ہے ذرا سوچو سکھو یہ کیا چیز یہ اس مرد کے تن کا تعویز ہے ذرا دیکھو انگہ کی تحریر کو تر رکھتا ہے اس ساری تقریر کو کا ذرا حینم ساکھی کو پڑھ اے جواں کہ انگر نے لکھا ہے اس میں عیاں ذرا سوچھ یارو گر انصاف ہے یہ سب کشمکش اس گھڑی صاف ہے كلام محمود ذرا آنکھیں تو کھولو سونے والو تمھارے سر پہ سورج آگیا ہے ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا اس سے بڑھ کر کیا ذریعہ چاہیئے اظہار کا ذره ذرہ ہے جہاں کا تابع فرمان حق تم ترقی چاہتے ہو تو بنو اس کے اسیر