بیت بازی — Page 27
b در شمین طالبو تم کو مبارک ہو کہ اب نزدیک ہیں اس مرے محبوب کے چہرے کے دکھلانے کے دن طلب گار ہو جائیں اس کے تباہ! وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راه ده طلب میں چلا ہے خود و بے حواس! خدا کی عنایات کی کر کے اس طرفہ کیفیت ہے ان لوگوں کی جو منکر ہوئے یوں تو ہر دم مشغلہ ہے گالیاں لیل و نہار کلام محمود طوفان کے بعد اُٹھتے چلے آتے ہیں طوفاں گھنے نہیں آتی ہے میری کشتی کنارے طالب دنیا نہیں ہوں طالب دیدار ہوں تب جگہ ٹھنڈا ہو جائے لکھوں سرخ تابان یار طالبان دریخ جاناں کو دکھاؤ دلبر عاشقوں کے لئے تم قبلہ نما ہو جاؤ طعنے دیتا ہے مجھے بات تو تب سے واعظ اس کو تو دیکھ کے انگشت بدنداں نہ ہو پر جلوہ کناں ہے ذرا دیکھو تو حن کا باب کھلا ہے ذرا دیکھو تو طوطے اڑ جائیں گے ہاتھوں کے تمہارے قافلو اس خدائے مقدر کے چہرہ دکھلانے کے دن اڑجائیں طریق عشق میں اے دل سیادت کیا غلامی کیا محبت خادم و آقا کو اک حلقہ میں لاتی ہے کلام طاهر طوفانِ مفاسد میں فرق ہو گئے بحر و بر ایرانی و خارانی - رومی و بخارائی در عدن طریق شرع نہیں اُسوہ رسول نہیں مقام شرم ہیں یہ غول القیا کے لئے طاقت وقوت کے مالک اُن کا منہ کراتے ہیں بند بخار دل دین کی گدی کے وارث پھینکتے ہیں اُن پر گند طالب کشف سے کہدو کہ بنے طالب یار وصل دلدار کہاں کشف و اشارات کہاں طائر دہم بھی تھکتا ہے یہ وہ دوری ہے ہم کہاں ، یار کہاں رسم ملاقات کہاں