بیت بازی — Page 19
19 ذلیل و خوار د رسوا ہو جہاں میں جو جامد ہو عدد ہو بدگماں ہو ذلت و نکمیت و خواری ہوئی مسلم کے نصیب دیکھیے اور ابھی رہتا ہے کیا کیا ہو کر ذرا دل تھام لو اپنا کہ اک دیوانہ آتا ہے کلام طاهر شرار حسن کا جلتا ہوا پروانہ آتا ہے ذکر سے بھر گئی بادہ کی زمیں آج کی رات اتر آیا ہے خدا وند نہیں آج کی رات در عدن ذرا آگے بڑھے اور ہم نے دیکھا وہ خود بھنے کو بڑھتا آرہا ہے دات باری کی رضا ہر دم رہی پیش نظر خلق کی پروانہ کی خاصت سے منہ موڑا نہیں بخار دل ذکر کی جس کو مل گئی لذت ضور عرفان آگئی گویا ذره ذره خلق کا تجھے پر فنا یک انساں سب سے بڑھ کر ہے خدا ذکر و شکر اللہ کا ہے مومن کا ہے معراج یہ پنج وقتہ وصل کے ساغر پلاتی ہے نماز در شهرين ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے رات جو رکھتے تھے پوشاکیں بزنگ یاسمن صبح کردے گی انہی مثل درختان چنار رکتے نہیں ہیں ظالم گالی سے ایک دم بھی ان کا تو شغل دیشہ صبح و مسا ہی ہے رنگ تقویٰ سے کوئی رنگت نہیں ہے خوب تر ہے یہی ایماں کا زیور ہے یہی دیں کا سنگار روشنی میں مہر تالیاں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگ بار